كيا علاقائى لہجہ ميں خطبہ جمعہ دينا جائز ہے ؟
يا كہ عربى زبان ميں ہى خطبہ دينا واجب ہے ؟
خطبہ جمعہ عبادت ہے جو عامى لہجوں ميں جائز نہيں، ليكن اگر كسى كو عربى نہ آتى ہو تو اس ميں كوئى حرج نہيں كہ وہ ايسى كلام كرے جو حاضرين سمجھ سكيں.
اور اگر حاضرين عربى زبان نہيں سمجھتے تو نماز كے بعد ان كے ليے اس كا ترجمہ كرنے ميں بھى كوئى حرج نہيں يا ان كى ضرورت اور احتياج كى اشياء انہيں ان كے لہجہ ميں سمجھائى جائيں.
واللہ اعلم .