ميں نے ريڈى ميڈ گارمنٹس كى دوكان پر ملازمت كرتى ہوں وہاں سے كچھ رقم چورى ہو گئى ہے، اور يہ سب كچھ غير ارادى طور پر ہوا ميرى طرف سے كوتاہى كى بنا پر نہيں، اب مجھے يہ پتہ نہيں چل رہا كہ ميں كيا كروں كيا مالك كو بتا دوں ؟
يہ علم ميں رہے كہ وہ شخص بہت زيادہ بدگمان ہے اور فورا مجھ پر تہمت لگا ديگا، اسے بتانے سے مجھے خدشہ ہے كہ ميرى شہرت خراب ہو گى، اور ميں يہ رقم واپس نہيں كر سكتى كيونكہ ميرى مالى حالت اس كى اجازت نہيں ديتى، ميں كيا كروں ؟
0 / 0
4,26212/05/2007
عورت سپر ماركيٹ پر ملازمت كرتى ہے جہاں سے رقم چورى ہو گئى اب اس پر تہمت لگنے كا خدشہ ہے
سوال: 88047
جواب کا متن
اللہ کی حمد، اور رسول اللہ اور ان کے پریوار پر سلام اور برکت ہو۔
اگر تو آپ نے مال كى حفاظت ميں كوئى كمى و كوتاہى نہيں كى، يا دوكان پر رہنے اور اس ميں موجود اشياء كى خيال ركھنے ميں كوئى كمى و كوتاہى نہيں كى تو آپ پر كوئى حرج نہيں، آپ مالك كو اس كى خبر كرنے پر مجبور ہيں، اور يہ اس سے بہتر ہے كہ اسے خود ہى مال غائب ہونے كا علم ہو، آپ كو چاہيے كہ آپنا معاملہ اللہ كے سپرد كر ديں تا كہ وہ آپ كى برات ظاہر كر دے.
ليكن اگر آپ كى كوتاہى كى بنا پر رقم چورى ہوئى ہے تو آپ كے ليے مالك كو ادائيگى كرنا ضرورى ہے، الا يہ كہ وہ معاف كر دے.
واللہ اعلم .
ماخذ:
الاسلام سوال و جواب