عوام الناس پر اپنے ملک کے علمائے کرام کی بات ماننا واجب ہے، ان کے موقف سے اختلاف نہ رکھے

سوال : 215535

05/02/2022

کیا عوام الناس کے لیے یہ جائز ہے کہ کسی بھی عالم سے فتوی طلب کرے اور اس کی بات پر عمل کر لے؟ یا پھر صرف اپنے علاقے کے علمائے کرام سے فتوی طلب کرے؟

جواب کا متن

لوگوں کی بنیادی طور پر تین قسمیں ہیں:
پہلی قسم: مجتہد عالم دین، اس سے مراد وہ شخص ہے جو کتاب و سنت کی نصوص سے براہ راست احکامات کشید کر سکتا ہے، تو ایسے عالم دین کے لیے کسی عالم کی تقلید کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ وہ اسی بات پر عمل کرے گا جس کی اس کا اجتہاد رہنمائی کرے، چاہے وہ موقف اس وقت کے علمائے کرام سے موافق ہو یا مخالف۔

دوسری قسم: باصلاحیت اور علم رکھنے والا علم کا پیاسا شخص کہ اس کے پاس اتنی صلاحیت ہے کہ علمائے کرام کے مختلف اقوال میں سے راجح دیکھ سکے، اگرچہ وہ خود اس قابل نہ ہو کہ خود ہی اجتہاد کرے تو ایسے شخص پر بھی کسی مخصوص عالم کی تقلید کرنا واجب نہیں ہے، بلکہ یہ شخص بھی علمائے کرام کے موقف کا باہمی موازنہ کرے اور ان کے دلائل دیکھے، پھر جو اسے دلائل کی رو سے راجح نظر آئے اسی پر عمل کرے۔

تیسری قسم: عوام الناس کی ہے، ان سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے پاس علمائے کرام کے اقوال میں سے راجح دیکھنے کی صلاحیت بھی نہیں ہوتی، نہ ہی یہ بذات خود کتاب و سنت کی نصوص سے احکامات کشید کر سکتے ہیں، تو ایسے لوگوں پر لازم ہے کہ وہ علمائے کرام سے استفسار کریں اور ان کے موقف کے مطابق عمل کریں۔ جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے:
فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
 ترجمہ: اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر سے پوچھ لو ۔[النحل: 43]

عوام الناس پر اپنے زمانے کے بلکہ اپنے ملک کے علمائے کرام کی بات ماننا ضروری ہے، اس لیے کہ کہیں یہ نہ ہو کہ عوام الناس اہل علم کے اقوال میں سے جو چاہیں اسے اپنانے لگ جائیں اور حقیقت یہ ہو کہ ان کے پاس اہل علم کے اقوال میں موازنہ کرنے کی کوئی صلاحیت ہی نہ ہو؛ کیونکہ ایسی صورت میں عوام الناس اسی موقف کو اپنائیں گے جو ان کے من کو بھائے گا، اور اس طرح باہمی اختلافات اور تنازعات بڑھتے چلے جائیں گے، اور آخر کار لوگ دین سے بالکل دور ہو جائیں گے۔

علمائے کرام نے لوگوں کی ان تینوں اقسام پر صراحت کے ساتھ گفتگو کی ہے۔

چنانچہ پہلی اور دوسری قسم کے بارے میں علامہ طوفی رحمہ اللہ "مختصر الروضة" (3/629) میں لکھتے ہیں:
"مجتہد عالم دین جب اجتہاد کرے اور اسے ظن غالب ہو کہ حق بات اس ، اس طرح ہے تو اب اس مجتہد عالم کے لیے متفقہ طور پر کسی کی تقلید کرنا جائز ہی نہیں ، یعنی اس موقف میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔
لیکن جس شخص نے ابھی تک اجتہاد کیا ہی نہیں، لیکن اسے اپنے بارے میں اتنا علم ہے کہ وہ عملی طور پر اجتہاد بھی کر سکتا ہے ؛ کیونکہ وہ اجتہاد کی صلاحیت رکھتا ہے، تو ایسے شخص کے لیے بھی مطلق طور پر کسی دوسرے کی تقلید کرنا جائز نہیں ہے ، نہ اپنے سے بڑے عالم کی نہ ہی کسی اور کی، چاہے وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کوئی ہو یا کوئی اور ہو۔" ختم شد

تیسری قسم یعنی عوام الناس ، تو ان کے بارے میں "تنقيح الفتاوى الحامدية " (7/431) میں ہے کہ:
"عوام الناس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ فقہائے کرام کے موقف پر عمل کریں، ان کے اقوال اور افعال کی پیروی کریں ۔۔۔ عوام الناس کے لیے یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ سابقہ اہل علم کے اقوال میں سے کسی ایک موقف کو پسند کریں۔ تاہم انہیں یہ اختیار ہے کہ اپنے زمانے کے علمائے کرام کے اقوال میں سے کسی کے موقف کو اپنا لیں بشرطیکہ سب علم ، صدق اور امانت داری میں یکساں ہوں۔ اگر کسی شخص کو کوئی مسئلہ در پیش ہو اور وہ اپنے علمائے کرام کے سامنے رکھ دے، اور وہ اسے صحابہ کرام کے مختلف اقوال بتلا دیں ، تو جاہل شخص ان اقوال سے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتا، اسے تو تبھی فائدہ ہو گا جب کوئی عالم دین ان اقوال میں سے کسی قول کو اس کے لیے منتخب کر دے۔" ختم شد

الشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"لوگ مختلف قسم کے ہوتے ہیں، کچھ تو اجتہاد کے قابل ہوتے ہیں اور کچھ میں اجتہاد کی صلاحیت نہیں ہوتی، کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو چند مخصوص قسم کے مسائل میں اجتہاد کرتے ہیں، ان کے بارے میں چھان بین اور تحقیق کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کے لیے حق اور باطل واضح بھی ہو جاتا ہے۔ اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں کسی بات کا علم نہیں ہوتا۔ تو ایسے میں عوام الناس کا موقف وہی ہونا چاہیے جو علمائے کرام کا ہوتا ہے؛ چنانچہ اگر کوئی ہمیں کہے کہ: میں سگریٹ نوشی کرتا ہوں؛ کیونکہ بعض اسلامی ممالک میں ایسے علمائے کرام بھی ہیں جو سگریٹ نوشی کو جائز کہتے ہیں، اور میں کسی کی بھی تقلید کرنے میں آزاد ہوں! اس لیے میں اُن کی بات مانتا ہوں۔ تو ہم اسے کہیں گے: تمہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہے؛ کیونکہ تقلید تم پر لازم ہے، اور تمہاری تقلید کے سب سے زیادہ حقدار تمہارئے اپنے علمائے کرام ہیں، اگر تم کسی ایسے عالم دین کی بات مانتے ہو جو آپ کے ملک میں رہتا ہی نہیں ہے تو پھر آپ شرعی دلیل کے بغیر ہی لوگوں میں اختلاف پیدا کر رہے ہو۔

اسی طرح کوئی کہے کہ: وہ ڈاڑھی منڈوانا چاہتا ہے؛ کیونکہ کچھ ممالک کے علمائے کرام اسے جائز کہتے ہیں۔ تو ہم اسے کہیں گے: یہ درست نہیں ہے؛ کیونکہ تم پر تقلید واجب ہے اس لیے اپنے ملک کے علمائے کرام کی مخالفت مت کریں۔

ایک اور شخص آ کر کہے: میں اولیاء اللہ کی قبروں کا طواف کرنا چاہتا ہوں؛ کیونکہ کچھ ممالک میں یہ جائز ہے۔

ایک شخص آ کر کہے: میں انہیں اللہ تعالی سے دعا کرتے ہوئے وسیلہ بنانا چاہتا ہوں، یا اسی طرح کا کوئی اور موقف پیش کرے تو ہم کہیں گے یہ درست نہیں ہے۔

کیونکہ عامی شخص پر یہی لازم ہے کہ وہ معتمد علمائے کرام کی تقلید کرے، ہمارے استاد محترم شیخ عبد الرحمن سعدی رحمہ اللہ نے بھی اس بات کا ذکر کیا ہے، انہوں نے کہا کہ: عوام الناس اپنے ملک سے باہر رہنے والے علمائے کرام کی تقلید نہیں کر سکتے؛ کیونکہ اس طرح اختلافات اور تنازعات بڑھ جائیں گے، مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ میں اونٹ کا گوشت کھا کر وضو نہیں کروں گا؛ کیونکہ کچھ علاقوں میں ایسے علما موجود ہیں جو اونٹ کا گوشت کھانے سے وجوب وضو کے قائل نہیں ہیں، تو ہم انہیں کہیں گے: نہیں ایسا ممکن نہیں ہے آپ پر وضو واجب ہے؛ کیونکہ یہی آپ کے علمائے کرام کا موقف ہے اور آ پ پر انہی کی تقلید کرنا واجب ہے۔" "لقاءات الباب المفتوح" ( 32/19)

ایک اور مقام پر آپ نے کہا:
"عوام الناس پر اپنے علاقے کے علمائے کرام کی تقلید کرنا لازم ہے؛ تا کہ عوام الناس بے راہ روی کا شکار نہ ہو جائیں؛ کیونکہ اگر ہم عوام الناس سے کہیں کہ : آپ کو جو موقف ملے اسی کو اپنا لو تو پھر لوگوں میں ایک ملت اور امت کا تصور ختم ہو جائے گا، اسی لیے ہمارے شیخ محترم عبد الرحمن بن سعدی رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ: عوام کا وہی موقف ہو گا جو ان کے علمائے کرام کا ہو گا، مثلاً: ہمارے ہاں سعودی عرب میں عورت پر چہرے کا پردہ لازمی ہے، اس لیے ہم اپنی عورتوں کو چہرے کا پردہ لازمی کرواتے ہیں، حتی کہ اگر کوئی عورت آ کر یہ کہے کہ میں تو فلاں مذہب کی پیروکار ہوں اور اس فقہی مذہب میں چہرہ کھولنا جائز ہے۔ تو ہم اسے کہیں گے: آپ کو پھر بھی چہرہ کھولنے کی اجازت نہیں ہے؛ کیونکہ آپ کا تعلق عوام الناس ہے، آپ میں اجتہاد کی صلاحیت نہیں ہے، اور آپ فلاں فقہی مذہب کا یہ موقف اس لیے لینا چاہتی ہیں کہ اس میں من چاہا موقف ہے، اور من چاہے موقف تلاش کرنا حرام ہے۔

ہاں اگر علمائے کرام میں سے کوئی عالم اپنے اجتہاد کی بدولت اس نتیجے پر پہنچے کہ عورت چہرے کا پردہ نہ کرے تو کوئی حرج نہیں ، اور وہ کہے کہ میں اپنی اہلیہ کو چہرے کا پردہ کرنے کی تلقین نہیں کروں گا، بلکہ اسے چہرہ کھولنے کی اجازت دوں گا، تو ایسی صورت میں کوئی حرج نہیں ہے، تاہم یہ عورت ایسے علاقے میں چہرہ نہیں کھولے گی جہاں سب عورتیں چہرے کا پردہ کرتی ہوں، ایسے علاقے میں اس سے پردہ کروایا جائے گا، اس کے پردہ نہ کرنے سے دوسروں میں خرابی پیدا ہو گی، اور ویسے بھی اس مسئلے میں سب متفق ہیں کہ چہرے کا پردہ کرنا اچھی بات ہے، چنانچہ جب چہرے کا پردہ کرنا اچھی بات ہے، تو ایسے صورت میں ہم نے ایک ایسے موقف پر عمل کرنے پر مجبور نہیں کیا جو اس کے ہاں حرام ہو، بلکہ ہم نے ایسے کام پر مجبور کیا ہے جو اس کے ہاں بھی اچھا ہے۔ یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ شریعت کے پابند اس ملک کے علاوہ کسی اور ملک کے علمائے کرام کی تقلید نہ کرے، اگر کرے گا تو اس سے شیرازہ بکھرے گا، ہاں جب یہ عالم دین اپنے ملک میں چلا جائے تو وہاں ہم اس بات کو لازم قرار نہیں دیں گے کہ ہماری بات تسلیم کرے؛ کیونکہ اس مسئلے کی نوعیت اجتہادی ہے تو ہم بھی اس مسئلے کو دلائل اور غور و فکر کے قابل ہی سمجھتے ہیں۔" ختم شد
"لقاءات الباب المفتوح " (32/19)

واللہ اعلم

ماخذ:  

الاسلام سوال و جواب