سود پر قرض حاصل كردہ قرض ميں سے اگر سات برس تك كچھ بھى ادا نہ كيا جائے تو قرض ( يعنى بنك كا نظام ہے كہ اسے مايوس قرضوں ميں شامل كرتے ہوئے ) كى واپسى كا مطالبہ ترك كرديا جاتا ہے، اور اگر اب اس كى ادايئگى شروع كردى جائے تو وہ سود كا مطالبہ بھى كرينگے، ليكن اگر سات برس تك انتظار كرے تو وہ اس قرض پر سود كے مطالبہ كو ترك كرتے ہوئے صرف اصل مال كا مطالبہ ہى كرينگے، تو كيا كسى شخص كے ليے ايسا كرنا جائز ہے ؟
مندرجہ بالا سوال فضيلۃ الشيخ جناب محمد بن صالح عثيمين رحمہ اللہ تعالى كے سامنے پيش كيا گيا تو ان كا جواب تھا:
اگر سات برس تك اس كى ادائيگى ميں ان كے ساتھ ٹال مٹول سے كام ليتا رہے، كہ وہ اس سے صرف اصل مال ہى واپس ليں گے تو ايسا كرنے ميں كوئى حرج نہيں .