داؤن لود کریں
0 / 0
1257311/09/2001

مفتی کی صفات

سوال: 21844

جوشخص اپنے آپ کوفتوی دینے کا اہل گردانے اس میں کون سی صفات اورخصلتوں کا ہونا واجب ہے ؟

اللہ کی حمد، اور رسول اللہ اور ان کے پریوار پر سلام اور برکت ہو۔

حافظ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

ابوعبداللہ بن بطہ رحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب ” الخلع ” میں امام احمد رحمہ
اللہ تعالی کا قول نقل کیا ہے کہ :

کسی بھی شخص کے لائق نہيں کہ وہ فتوی دینے کے منصب پرقائم ہو جب تک کہ اس میں پانچ
صفات نہ ہوں :

پہلی :

یہ کہ اس کی نیت ہونی چاہیے اگراس کی نیت ہی نہیں توپھر نہ تواس پر نور ہے اورنہ
ہی اس کی کلام پر نور ہوگا ۔

دوسری :

یہ کہ اس کے پاس علم وحلم و بردباری اوروقار و سکینت ہو ۔

تیسری :

جس ( مسئلہ ) میں وہ ہے وہ قوی ہواور اس کی معرفت بھی ہونا ضروری ہے ۔

چوتھی :

اس میں کفایت ہونی چاہیے وگرنہ لوگ اسے چبا جائيں گے ۔

پانچویں :

لوگوں کی معرفت وپہچان ہونی چاہیے ۔

اس سے امام احمد رحمہ اللہ تعالی کی بزرگی و شرف ظاہر اورعلم ومعرفت میں ان کا
مقام ظاہر ہوتا ہے ، بلاشبہ یہ پانچ صفات فتوی کی ممدو معاون ہیں ان پانچوں میں سے
ایک بھی کم ہوتو مفتی میں اس کے حسب حال خلل واقع ہوتا ہے ۔

واللہ اعلم .

ماخذ

دیکھیں اعلام المؤقعین ( 4 / 153 ) ۔

at email

ایمیل سروس میں سبسکرائب کریں

ویب سائٹ کی جانب سے تازہ ترین امور ایمیل پر وصول کرنے کیلیے ڈاک لسٹ میں شامل ہوں

phone

سلام سوال و جواب ایپ

مواد تک رفتار اور بغیر انٹرنیٹ کے گھومنے کی صلاحیت

download iosdownload android
at email

ایمیل سروس میں سبسکرائب کریں

ویب سائٹ کی جانب سے تازہ ترین امور ایمیل پر وصول کرنے کیلیے ڈاک لسٹ میں شامل ہوں

phone

سلام سوال و جواب ایپ

مواد تک رفتار اور بغیر انٹرنیٹ کے گھومنے کی صلاحیت

download iosdownload android